نئی دہلی12 دسمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مہاراشٹر میں حکومت کی تشکیل کے تقریبا تین ہفتوں بعد قلمدانوں کی تقسیم ہوئی۔ شیوسینا کے ایکناتھ شندے کو محکمہ داخلہ ملا، جبکہ کانگریس کے بالا صاحب تھورات کو محکمہ آمدنی ملا۔وہیں وزارت خزانہ این سی پی کے جینت پاٹل کے حصے میں آیا۔ اس کے علاوہ این سی پی کے چھگن بھجبل کو پانی،املاک اور دیہی ترقی کی وزارت کا چارج دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ صنعت اور کھیل محکمہ سبھاش دیسائی کے پاس رہے گا۔ دوسری طرف کانگریس کے نتن راوت کو محکمہ سڑک سونپا گیا ہے۔ واضح ہو کہ ادھو ٹھاکرے نے 28 نومبر کو شیواجی پارک پر بڑے ہی دھوم دھام سے حلف لیا تھا۔ وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ 6 وزرا ء کو بھی حلف دلایا گیا تھا۔ اس سے پہلے خبر تھی کہ محکمہ داخلہ کو لے کر معمہ بنا ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے سابق وزیر اعلی دیویندر فڑنویس کی طرح محکمہ داخلہ اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے، لیکن این سی پی اور کانگریس اس پر راضی نہیں تھی۔ مہاراشٹرمیں شیوسینا-کانگریس این سی پی کی ’مہا راشٹر وکاس اگھاڑی‘کے رہنما کے طور پر ادھو ٹھاکرے نے وزیر اعلی کے عہدے کا حلف لیا تھا۔ ادھو ٹھاکرے کے ساتھ ساتھ تینوں پارٹیوں کے چھ رہنماؤں نے بھی کابینہ وزیر کے طور پر حلف لیا تھا۔ ان میں شیوسینا کے ایکناتھ شندے اور سبھاش دیسائی، این سی پی کے جینت پاٹل اور چھگن بھجبل، کانگریس کے کوٹے سے بالا صاحب تھوراتو اور نتن راوت شامل ہیں۔ تینوں جماعتوں کے اتحاد کو’مہاراشٹر وکاس اگھاڑی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ تینوں جماعتوں کے درمیان کئی دور کی میٹنگ کے بعد یہ طے کیا گیا تھا کہ وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے ہوں گے۔